شہر وانمباڑی اور اس کی مذہبی روایات
اس شہر کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی مذہبی اور ادبی روایات ہیں جن کی جڑیں بے حد گہری اور مضبوط ہیں۔ یہاں کے باشندے اپنی اعلیٰ اخلاقی قدروں کے لیے مشہور ہیں، جن کی جھرمٹ میں یہ شہر ایک سنہری تاج کی مانند دمکتا ہے۔ مگر افسوس کہ گزشتہ چند سالوں میں کچھ ایسا ہوا ہے جس نے اس شہر کی عظمت کو دھندلا دیا ہے۔ ایک شخص نے خود کو اس شہر کا سب سے بڑا فسادی قرار دے کر ایک نئی داستان رقم کی ہے۔
یہ کوئی الزام نہیں تھا، بلکہ خود اس نے اپنی حرکات اور سکنات سے یہ حقیقت تسلیم
کی کہ وہ جو کچھ بھی کر رہا ہے، وہ دراصل فساد کے دائرے میں آتا ہے۔ اس نے اپنی زبان
سے یہ الفاظ کہہ کر ایک چیلنج پیش کیا کہ وہ اس شہر کا سب سے بڑا فسادی ہے، حالانکہ
اسے اس بات کا پورا شعور ہونا چاہیے تھا کہ وہ نہ تو فسادی تھا اور نہ ہی اس کی گمراہی
کی ضرورت تھی۔
یہ شخص جسے ہم ادیب و شاعر کے طور پر جانتے ہیں، اسی کی تخلیقات نے کبھی اردو کے
دلکش الفاظ سے دلوں کو بہلایا تھا۔ اردو جو اپنے لفظوں میں خوشبو بکھیرنے اور ہر جملے
سے مٹھاس فراہم کرنے کا کمال رکھتی ہے، کیا اسی اردو کو ایسا زہر دینے کا حق کسی شاعر
یا ادیب کو ہے؟ اور وہ بھی محض انتقامی جذبات کی تسکین کے لیے!
کیا یہ وہ الفاظ ہیں جن سے اردو کا دامن روشن ہوتا ہے؟ کیا یہی وہ زبان ہے جس سے
محبت، امن اور بھائی چارہ کی خوشبو آتی ہے؟ ایک ادیب کا کام ہر لفظ میں نیکی، حسن،
اور اخلاص کی جھلک پیدا کرنا ہوتا ہے، نہ کہ اپنی ذات کی تسکین کے لیے فساد کے بیج
بونا۔
اگرچہ ایک شاعر کی شاعری میں چھپی ہوئی تکلیف، غم، یا معاشرتی ناانصافی کی عکاسی
ہو سکتی ہے، لیکن کیا یہ جائز ہے کہ کوئی اپنی تخلیقات کے ذریعے سماج میں فساد پیدا
کرنے کے لیے کھلا اعلان کرے؟ یہ سوال ہر سنجیدہ ادیب اور تخلیق کار کے ذہن میں ابھرتا
ہے۔
ہمیں امید ہے کہ اس شہر کی ادبی روایات اور اخلاقی قدریں ایسے کسی بھی عمل کو فروغ
نہیں دیں گی۔ کیونکہ اردو کے حقیقی جمال کی اصل روح تو انسانیت کی خدمت، محبت، اور
امن میں ہے، نہ کہ فساد اور انتقام میں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں