پیر، 27 اکتوبر، 2025

شہر نامہ

 

شہر وانمباڑی اور اس کی مذہبی روایات

 

اس شہر کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی مذہبی اور ادبی روایات ہیں جن کی جڑیں بے حد گہری اور مضبوط ہیں۔ یہاں کے باشندے اپنی اعلیٰ اخلاقی قدروں کے لیے مشہور ہیں، جن کی جھرمٹ میں یہ شہر ایک سنہری تاج کی مانند دمکتا ہے۔ مگر افسوس کہ گزشتہ چند سالوں میں کچھ ایسا ہوا ہے جس نے اس شہر کی عظمت کو دھندلا دیا ہے۔ ایک شخص نے خود کو اس شہر کا سب سے بڑا فسادی قرار دے کر ایک نئی داستان رقم کی ہے۔ 

یہ کوئی الزام نہیں تھا، بلکہ خود اس نے اپنی حرکات اور سکنات سے یہ حقیقت تسلیم کی کہ وہ جو کچھ بھی کر رہا ہے، وہ دراصل فساد کے دائرے میں آتا ہے۔ اس نے اپنی زبان سے یہ الفاظ کہہ کر ایک چیلنج پیش کیا کہ وہ اس شہر کا سب سے بڑا فسادی ہے، حالانکہ اسے اس بات کا پورا شعور ہونا چاہیے تھا کہ وہ نہ تو فسادی تھا اور نہ ہی اس کی گمراہی کی ضرورت تھی۔

یہ شخص جسے ہم ادیب و شاعر کے طور پر جانتے ہیں، اسی کی تخلیقات نے کبھی اردو کے دلکش الفاظ سے دلوں کو بہلایا تھا۔ اردو جو اپنے لفظوں میں خوشبو بکھیرنے اور ہر جملے سے مٹھاس فراہم کرنے کا کمال رکھتی ہے، کیا اسی اردو کو ایسا زہر دینے کا حق کسی شاعر یا ادیب کو ہے؟ اور وہ بھی محض انتقامی جذبات کی تسکین کے لیے!

کیا یہ وہ الفاظ ہیں جن سے اردو کا دامن روشن ہوتا ہے؟ کیا یہی وہ زبان ہے جس سے محبت، امن اور بھائی چارہ کی خوشبو آتی ہے؟ ایک ادیب کا کام ہر لفظ میں نیکی، حسن، اور اخلاص کی جھلک پیدا کرنا ہوتا ہے، نہ کہ اپنی ذات کی تسکین کے لیے فساد کے بیج بونا۔

اگرچہ ایک شاعر کی شاعری میں چھپی ہوئی تکلیف، غم، یا معاشرتی ناانصافی کی عکاسی ہو سکتی ہے، لیکن کیا یہ جائز ہے کہ کوئی اپنی تخلیقات کے ذریعے سماج میں فساد پیدا کرنے کے لیے کھلا اعلان کرے؟ یہ سوال ہر سنجیدہ ادیب اور تخلیق کار کے ذہن میں ابھرتا ہے۔

ہمیں امید ہے کہ اس شہر کی ادبی روایات اور اخلاقی قدریں ایسے کسی بھی عمل کو فروغ نہیں دیں گی۔ کیونکہ اردو کے حقیقی جمال کی اصل روح تو انسانیت کی خدمت، محبت، اور امن میں ہے، نہ کہ فساد اور انتقام میں۔

پیر، 13 اکتوبر، 2025

غزل

 ادراکِ حقیقت بھی اک راز ہے صاحب

یہ خود سے ملاقات کا آغاز ہے صاحب

ہر لفظ میں پوشیدہ کوئی رازِ  دروں ہے

یہ لفظ فقط لفظ نہیں, راز ہے صاحب

ہر لفظ میں اک لذتِ گفتار چھپی ہے

یہ آہ نہیں نغمۂ اغاز ہے صاحب 

جذبوں کی زمیں پر جو ابھی خواب سجے ہیں

وہ خواب نہیں فکر کی پرواز ہے صاحب

تنقید اور تنقیص

 *تنقید اور تنقیص* 


*تحریر: اکبر زاہد*


انسانی معاشرت میں اختلافِ رائے اور تنقید ایک فطری اور تعمیری عمل ہے۔ کوئی معاشرہ اس وقت تک فکری طور پر زندہ نہیں رہ سکتا جب تک اس میں رائے دینے، سوال اٹھانے اور اصلاح کی گنجائش موجود نہ ہو۔ لیکن جب یہی تنقید اخلاقی حدود سے تجاوز کر جائے، تو وہ اصلاح کے بجائے فساد کا باعث بن جاتی ہے۔

تنقید کا اصل مقصد

اصل تنقید وہ ہے جو کسی خیال، نظریے، یا عمل کی درست اور منصفانہ جانچ کرے۔ اس میں مقصد اصلاح، رہنمائی اور بہتری ہوتا ہے، نہ کہ کسی کی توہین یا تضحیک۔

قرآنِ مجید میں بھی نصیحت اور گفت و شنید کے لیے "قولِ لین" (نرم اور مہذب گفتگو) کی تلقین کی گئی ہے۔

فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَىٰ

(سورہ طٰہٰ، آیت 44)

اس سے نرم بات کہو تاکہ وہ نصیحت قبول کرے یا خوف کھائے۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر فرعون جیسے شخص سے گفتگو میں بھی نرمی کا حکم ہے تو عام انسانوں کے ساتھ سختی، تمسخر یا بدتمیزی کیسے روا رکھی جا سکتی ہے؟

جب کسی کے کام یا نظریے پر گفتگو کے بجائے شخصیت، خاندان، یا نیت پر حملہ کیا جائے تو وہ تنقید نہیں رہتی بلکہ ذاتیات پر حملہ بن جاتی ہے۔

ایسی تنقید کو ادبی زبان میں "تنقید برائے تنقیص" کہا جاتا ہے — یعنی اصلاح نہیں بلکہ ذلت کے ارادے سے کی گئی بات۔

یہ رویہ نہ صرف ناقد کے اخلاقی زوال کو ظاہر کرتا ہے بلکہ سامع یا قاری پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔


ادب میں تنقید کا شرف


ادب کا میدان ہمیشہ احترامِ انسانیت کا درس دیتا آیا ہے۔

ایک سچا ادیب یا ناقد وہ ہے جو عیب پر بھی ادب کے ساتھ بات کرے۔

بدقسمتی سے آج تنقید کے نام پر تضحیک اور تحقیر عام ہو چکی ہے — جو نہ تنقید ہے نہ تہذیب۔


تنقید برائے تنقیص — زہرِ گفتار


تنقید برائے تنقیص — یعنی ایسی تنقید جس کا مقصد کسی کو نیچا دکھانا ہو۔

یہ دراصل ناراض دل کا ردِعمل ہے، نہ کہ باشعور ذہن کا تجزیہ۔


ادب اور اخلاق کا توازن


ادب، چاہے شعر میں ہو یا نثر میں، اخلاقی شائستگی سے مشروط ہے۔


غیر مہذب تنقید نہ صرف زبان کی حرمت کو مجروح کرتی ہے بلکہ مکالمے کی روح بھی ختم کر دیتی ہے۔

تنقید اگر تہذیب کے دائرے میں کی جائے تو وہ اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے، لیکن اگر اس میں بدتمیزی، طنز اور نفرت شامل ہو جائے تو وہ محض زہریلا ردِعمل رہ جاتی ہے۔


اسی لیے فرمایا گیا ہے

“جو دل میں بغض رکھ کر بات کرے، اس کی زبان کبھی عدل نہیں کر سکتی۔”

نفرت اور انتقامی جذبہ

 رحمتِ الٰہی کے سائے میں پناہ ڈھونڈیں  ظلمت کے اندھیروں میں نہیں اکبر زاہد جب دل کے دریا میں نفرت کی ایک لہر اٹھتی ہے تو عقل کی ناؤ ڈولنے لگ...