رحمتِ الٰہی کے سائے میں پناہ ڈھونڈیں
ظلمت کے اندھیروں میں نہیں
اکبر زاہد
جب دل کے دریا میں نفرت کی ایک لہر اٹھتی ہے تو عقل کی ناؤ ڈولنے لگتی ہے۔ انسان جو محبت، عدل اور رحم کے نور سے بنا ہے، وہ اس وقت سب سے زیادہ اندھیرا محسوس کرتا ہے جب اپنے ہی دل میں انتقام کی آگ سلگنے لگتی ہے۔
نفرت اور انتقامی جذبہ، دراصل روح کی وہ زنجیر ہے جو انسان کو زمین سے باندھ دیتی ہے اور آسمان تک پہنچنے کی ساری راہیں بند کر دیتی ہے۔
انتقام بظاہر ایک جوش ہے، مگر درحقیقت یہ کمزوری کا دوسرا نام ہے۔ جو دل سچائی پر مطمئن ہوتا ہے، وہ بدلے کی آگ میں نہیں جلتا۔ وہ جانتا ہے کہ انصاف وقت کا کام ہے، انسان کا نہیں۔ بدلہ ہمیشہ انسان کو چھوٹا کر دیتا ہے، جب کہ معافی اسے عظیم بنا دیتی ہے۔
نفرت کے ساتھ کیا گیا کوئی بھی عمل، خواہ وہ کتنا ہی درست کیوں نہ ہو، اپنی تاثیر کھو دیتا ہے۔ کیونکہ جس عمل میں نیت کا زہر شامل ہو جائے، وہ انسانیت کے پیمانے پر کبھی معتبر نہیں رہتا۔
انتقامی جذبہ دلوں کو جوڑنے کے بجائے توڑ دیتا ہے، زبان کو تلوار بنا دیتا ہے، اور نظر سے بصیرت چھین لیتا ہے۔
زندگی کا اصل حسن یہ ہے کہ ہم اپنی رنجشوں کے پار دیکھ سکیں۔ اگر کسی نے دکھ دیا ہے تو اسے اس کے عمل کا قیدی نہ بنائیں
جو بلند ہیں، جو جانتے ہیں کہ سکون بدلے میں نہیں، بلکہ صبر اور عفو میں ہے۔
جو شخص نفرت کے بجائے محبت سے جواب دیتا ہے، وہ اپنے کردار سے دشمن کے دل پر ایسا نقش چھوڑ دیتا ہے جو کبھی مٹ نہیں سکتا۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان، انسانیت سے آگے بڑھ کر **رحم** اور **خلوص** کا پیکر بن جاتا ہے۔