اقتدار کی ہوس اور آمرانہ ذہنیت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اقتدار کی ہوس ہی آمرانہ ذہنیت کو پیدا کرتی ہے۔ ہر دور میں ایسا ہوتا چلا آیا ہے اور موجودہ ہندوستان میں بھی ہم اس کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔
وہ چاہے سی اے اے ہو یا ین آر سی، چاہے آرڈیننس کے ذریعے منظور کردہ طلاق بل، یا نئی تعلیمی پالیسی یا پھر زرعی اصلاحات قانون۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہندوستانی شہری آمرانہ ذہنیت کے شکنجے میں پھنس کر ظلم و جبر کی چکی میں پس رہے ہیں۔
ایک جمہوری نظام کا تقاضہ یہ ہے کہ بر سر اقتدار حکومت عوام کی پسند اور ناپسندی کو دھیان میں رکھتے ہوئے قانون بنائے۔ اگر کوئی قانون عوامی مفادات کے خلاف ہو اور عوام اس قانون کے خلاف شکایت کرتے ہیں اور اسے واپس لینے یا اس میں ترمیم کا مطالبہ کرتے ہیں یہ بحیثیت شہری ان کا دستوری حق ہے۔ اور اگر کوئی حکومت دستور کے خلاف ورزی کرتے ہوئے من مانے قوانین منظور کرتی ہے تو عدالت عظمی کی ذمہ داری بنتی یے کہ وہ ان کا نوٹس لے اور حکومت سے جواب طلبی کرے اور اگر عدالیہ خاموش رہتی ہے تو یہ سول سوسائٹی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کے خلاف آواز بلند کرے اور احتجاج کرے۔
پر امن احتجاج جمہوریت کا ایک اہم حصہ ہوتا ہے۔اور اس سے کسی کو روکا نہیں جاسکتا۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ جب بھی کوئی پرامن احتجاج کیا گیا اسے روکنے کے لئے حکومت نے تشدد کا سہارا لیا۔ لاٹھیاں برسائی گئیں، گولیاں چلائیں گئیں، دوکانیں اور مکانات جلائے گئے اور معصوم لوگوں کو شہید کیا گیا۔ ین آر سی اور سی اے اے احتجاج کے بعد ظلم و جبر اور احتجاج کو روکنے کے لئے جو کاروائیاں کی جارہی ہیں وہ اب کسانوں کے احتجاج کے خلاف سرکاری سطح پر ہورہی کاروائیوں میں سامنے آ رہی ہیں۔ حکومت عوام کی خواہشات کا احترام کرنے کے بجائے عوام پر زبردستی اپنی خواہشات کو تھوپنا چاہتی ہے جو آمرانہ ذہنیت کا ثبوت ہے۔ ملک ایک جمہوری نظام کا پابند ہے لیکن یہاں جمہوریت کی آڑ میں آمریت کو بڑھاوا دیا جارہا ہے جسے اگر روکا نہیں گیا تو ملک خانہ جنگی اور شدید انتشارکا شکار ہوجائے گا۔ ملک میں آمرانہ ذہنیت کے خاتمہ کے لئے جو لوگ کام کرسکتے ہیں ان میں سر فہرست نام بے باک ، ایماندار اور نڈر صحافیوں کا آتا ہے۔ میڈیا جمہوریت کا اہم ستون ہے اور اگر میڈیا آمرانہ ذہنیت کے مقابلہ میں کھڑا ہوجائے تو ہم اپنی جمہوریت کو بچانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں