امتناعِ تعصب: مسلم دشمنی کے بڑھتے سائے اور انسانیت کی آزمائش
اکبر زاہد
عصرِ حاضر میں، جب دنیا کو ایک دوسرے کے قریب تر لانے والی ٹیکنالوجی عروج پر ہے، ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشروں میں تقسیم اور نفرت کی جڑیں گہری ہو رہی ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس نفرت کی سب سے بڑی زد مسلمانوں پر پڑ رہی ہے۔ حکمرانوں کی سیاسی چالیں ہوں یا مغربی دنیا کا بڑھتا ہوا تعصب، مسلم دشمنی ایک عالمی رجحان بن چکا ہے جو نہ صرف مسلم کمیونٹیز کے لیے خطرہ ہے، بلکہ خود انسانیت کی روح کو بھی مجروح کر رہا ہے۔
حکمرانی میں عصبیت کا زہر
اکثر دیکھا گیا ہے کہ کچھ حکمران طبقے اپنی ناکامیاں چھپانے اور اقتدار کو طول دینے کے لیے مذہبی اور نسلی تعصب کا سہارا لیتے ہیں۔ مسلمانوں کو "دوسرے" کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جنہیں ترقی کی راہ میں رکاوٹ یا ملک کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح کی عصبیت کو باقاعدہ ریاستی پالیسیوں اور قوانین کی شکل دی جاتی ہے، جو مسلم شہریوں کے حقوق کو محدود کرتی ہیں۔ شہریت کے قوانین میں تبدیلی، مذہبی آزادیوں پر قدغنیں، اور امتیازی سلوک کی دیگر صورتیں اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اس زہر آلود سیاست کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک کے اندر مختلف کمیونٹیز کے درمیان بداعتمادی بڑھتی ہے، اور معاشرہ ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے۔
مغربی دنیا میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتا ہوا تعصب
مغربی دنیا میں مسلم دشمنی کا رجحان خاص طور پر تشویشناک ہے۔ نائن الیون کے بعد سے، دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے کی مسلسل کوششیں کی گئیں، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں منفی تصورات عام ہو گئے۔ میڈیا نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا، جہاں مسلمانوں کو اکثر ایک ہی منفی تصویر میں پیش کیا جاتا ہے۔
اس کا عملی اظہار مختلف شکلوں میں ہوتا ہے:
اسلامو فوبیا (Islamophobia): یہ ایک منظم خوف اور نفرت ہے جو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف پھیلائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے مساجد پر حملے، مسلم خواتین کے حجاب پر اعتراضات اور روزمرہ کی زندگی میں امتیازی سلوک کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
سیاسی بیانات: مغربی سیاست دان اکثر اپنی تقریروں میں مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ ووٹرز کو اپنی طرف راغب کر سکیں۔ یہ رویہ مسلم کمیونٹیز کو مزید الگ تھلگ کر دیتا ہے۔
امیگریشن پالیسیاں: کئی مغربی ممالک میں امیگریشن قوانین کو اس طرح سے سخت کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے لیے ان ممالک میں آنا یا رہنا مشکل ہو جائے۔
انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری
یہ وقت اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم سب اس بڑھتے ہوئے تعصب کے خلاف آواز اٹھائیں۔ مسلم دشمنی صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی حقوق، انصاف اور بھائی چارے کے بنیادی اصولوں پر ایک حملہ ہے۔ ہمیں اپنے حکمرانوں کو جوابدہ ٹھہرانا ہوگا اور ان پالیسیوں کی مذمت کرنی ہوگی جو نفرت کو فروغ دیتی ہیں۔ میڈیا کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے اور مسلمانوں کی صحیح تصویر پیش کرنی چاہیے۔
جب تک ہم سب مل کر اس عصبیت کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے، ہمارے معاشرے کبھی بھی حقیقی امن اور ترقی حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ وقت ہے کہ ہم نفرت کی دیواریں گرا کر محبت اور احترام کی بنیاد پر ایک ایسی دنیا تعمیر کریں جہاں ہر انسان، چاہے اس کا مذہب، نسل یا پس منظر کچھ بھی ہو، آزادی اور عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے۔