پیر، 13 اکتوبر، 2025

غزل

 ادراکِ حقیقت بھی اک راز ہے صاحب

یہ خود سے ملاقات کا آغاز ہے صاحب

ہر لفظ میں پوشیدہ کوئی رازِ  دروں ہے

یہ لفظ فقط لفظ نہیں, راز ہے صاحب

ہر لفظ میں اک لذتِ گفتار چھپی ہے

یہ آہ نہیں نغمۂ اغاز ہے صاحب 

جذبوں کی زمیں پر جو ابھی خواب سجے ہیں

وہ خواب نہیں فکر کی پرواز ہے صاحب

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

نفرت اور انتقامی جذبہ

 رحمتِ الٰہی کے سائے میں پناہ ڈھونڈیں  ظلمت کے اندھیروں میں نہیں اکبر زاہد جب دل کے دریا میں نفرت کی ایک لہر اٹھتی ہے تو عقل کی ناؤ ڈولنے لگ...